Bait Bazi

طلوع شمس مفارقت ہے
پرانی کِرنیں نئے مکانوں کے آنگنوں میں لرز رہی ہیں
! پرانی کرنیں
فصیلِ شہرِ وفا کے روزن
چمکتے ذروں سے بھر گئی ہیں
چکمتے زرّے
گئے دنوں کی عزیز باتیں
نگار صبحیں . . . گلاب راتیں
بساطِ دل بھی عجیب شے ہے
ہزار جیتیں . . . ہزار ماتیں

جدائیوں کی ہوائیں لمحوں کی خشک مٹی اُڑا رہی ہیں
گئی رُتوں کا ملال کب تک؟
چلو کے شاخیں تو ٹوٹتی ہیں
چلو کے قبروں پہ خون رونے سے
!اپنی آنکھیں ہی پھوٹتی ہیں

یہ موڑ وہ ہے جہاں سے میرے تمھارے رستے بدل گئے ہیں
پرانی راہوں کو لوٹنا بھی ہماری تقدیر میں نہیں
کے راستے بھی ہمارے قدموں کے ساتھ آگے نکل گئے ہیں

طلوع شمس مفارقت ہے !
تم اپنی آنکھوں میں جھلملاتے ہوئے ستاروں کو موت دے دو
،گئی رتوں کے تمام پھولوں، تمام خاروں کو موت دے دو
نئے سفر کو حیات بخشو
کے پچھلی راہوں پہ سبت جتنے نقوش پا ہیں
وہ بار ہونگے
!ہوا اُڑائے کے تم آڑاؤں​
 

جیسے ساحل سے چھڑا لیتی ہیں موجیں دامن
کتنا سادہ ہے تیرا مجھ سے گریزاں ہونا​
 

نظر اُن کی، زُباں اُنکی، تعجب ہے کہ اُس پر بھی
نظر کچھ اور کہتی ہے، زُباں کچھ اور کہتی ہے

​
 

ہم تیرے لُطف سے نادم ہیں کہ اکثر اوقات
دِل کسی اور کی باتوں سے دُکھا ہوتا ہے

​
 

سوچو تو سلوٹوں سے بھری ہے تمام روح
دیکھو تو اک شکن بھی نہیں ہے لباس میں
​
 
اتنے خوش بخت حقیقت میں کہاں ہیں ہم لوگ
جتنے تصویر میں خوش باش نظر آتے ہیں​
 
قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اُتارو
ہم لوگ محبت کی کہانی میں مَرے ہیں​
 
عُمر کے ساتھ چمک ماند پڑی ہے لیکن
کیا یہ کم ہے کہ بوسیدہ نہیں لگتا میں
یہ ہُنر مجھ کو بڑی دیر کے بعد آیا ہے
رنج کے ساتھ جو رنجیدہ نہیں لگتا میں
​
 
کہاں اب دعاؤں کی برکتیں وہ نصیحتیں وہ ہدایتیں
یہ مطالبوں کا خلوص ہے یہ ضرورتوں کا سلام ہے​
 
وہ مجھے یاد تو کرتا ہے مگر یوں جیسے
گھر کا دروازہ کسی رات کُھلا رہ جائے​
 

پھر تُو نے چھیڑ دی ہے گئی ساعتوں کی بات
وہ گُفتگُو نہ کر کہ تُجھے بھی ملال ہو

​
 
آتے آتے یونہی دم بھر کو رُکی ہو گی بہار
جاتے جاتے یونہی پل بھر کو خِزاں ٹھہری ہے

​
 

یہ کیا قیامت ہے باغبانوں کہ جن کی خاطر بہار آئی
وہی شگوفے کھٹک رہے ہیں تمھاری آنکھوں میں خار بن کر

​
 
یہ غرورِ حُسن ہے یا کوئی طرز خاص تیری
کہ کسی سے کُچھ نہ سُننا، نہ کسی کو کچھ بتانا
یہ اگر ہے خُو تِری تو، یہ مِرا بھی مشغلہ ہے
کبھی اِس سے دل لگانا، کبھی اُس سے دل لگانا

​
 


یہ ہے مے کدہ، یہاں رِند ہیں
یہاں ساقی سب کا امام ہے
یہ حرم نہیں ہے شیخ جی
یہاں پارسائی حرام ہے
​
 


حاصلِ کُن ہے یہ جہانِ خراب
یہی ممکن تھا اتنی عُجلت میں

​
 
Khud ko ye soch ke tora hae ke dekhon to sahi
mera me'maar mujhey ab ke banata kya hae
 
Back
Top