Bait Bazi

دونوں ہی سُلگتے ہیں مگر فرق ہے تپش کا
حاسد کی جلن اور ہے عاشق کا دُھواں اور​
 
ابھی تو اپنے ہی حیرت کدے میں اُلجھا ہوں
میں خود سے نکلوں تو اِس کائنات کو دیکھوں​
 
نہ میری آنکھ نہ قلب وجگر میں رہتا ہے
وہ درد بن کے میرے آدہے سر میں رہتا ہے​
 
منحصر اہل ستم پر ہی نہیں ہے محسن
لوگ اپنوں کی عنایت سے بھی مر جاتے ہیں​
 
اُن کی صحبت میں گئے،سنبھلے، دوبارہ ٹوٹے
ہم کسی شخص کو دے دے کے سہارا ٹوٹے​
 
حکمت کی بات کیا ہو تماشا گروں کے بیچ
اُن سے کیا کلام جنہیں حدِ ادب نہیں​
 
پرندے لوٹ آتے ہیں مگر یہ آدمی عابیؔ
ذرا سے پر نکلتے ہی ٹھکانے چھوڑ دیتے ہیں​
 

زندگی تو بھی مروت کی رواداری میں
پیچھے ہٹتے ہوئے دیوار سے جا لگتی ہے​
 
تنہائیوں کی قید سے گھبرا کے ایک شخص
آواز دے رہا ہے مجھے مار دیجیے​
 
زندگی قرض میں آئے ہوئے سکے کی طرح
روز کچھ سُود میرے سر پہ چڑھا دیتی ہے​
 
دُور تک ساتھ دیا کرتی ہیں آنکھیں اُن کا
تُو نے دیکھے ہیں کبھی گاؤں سے جاتے ہوئے لوگ​
 
مانا کہ اگر تم آ جاتے دو چار گھڑی ہم جی لیتے
پر اتنی ذرا سی خواہش پر ہم تم کو پریشاں کیوں کرتے​
 

ہر آشنا میں کہاں خُوئے محرمانہ وہ
کہ بے وفا تھا مگر دوست تھا پُرانا وہ
​
 

نہ جانے کون سی منزل کو لے چلے ہم کو
وہ ہم سفر جو حقیقت میں ہم سفر بھی نہیں
​
 

مِرے سُخن کا قرینہ ڈبو گیا مُجھ کو
کہ جس کو حال سُنایا اُسے فسانہ لگا
​
 

بارش ہوئی تو تیری خوشبو کے قافلے
ایسے اُڑے کہ شہر گلابوں سے بھر گیا
​
 
یہ بھی اِک ذہنی اذیت ہے مُسافر کو اگر
گھر پہنچ کر بھی یہ لگتا ہے کہ گھر جانا ہے​
 
Back
Top