اب یہ کس شکل میں ظاہر ہو خُدا ہی جانے
رنج ایسا ہے کہ اندر نہیں رہنے والا
میں اُسے چھوڑنا چاہوں بھی تو کیسے چھوڑوں
وہ کِسی اور کا ہو کر نہیں رہنے والا
خود آگہی کا ہمیں اِک چراغ بھی نہ ملا
کہاں کہاں نہیں بھٹکے، سُراغ بھی نہ ملا
میں دُکھ سمجھتا ہوں سب اپنے نکتہ چینوں کے
جنہیں کبھی مِرے دامن پہ داغ بھی نہ ملا